اندور،3؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مدھیہ پردیش میں کسانوں کی گزشتہ تین دن سے جاری تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس نے نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت سے آج مطالبہ کیا کہ وہ آلو اور پیاز سمیت تمام بڑے فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت(ایم ایس پی)طے کرے۔
ریاستی کانگریس ترجمان جے پی دھنوپیا نے یہاں نامہ نگاروں سے کہاکہ ہم صوبے کے کسانوں کے ساتھ ہیں۔مودی حکومت کو کسانوں کے مفاد میں آلو، پیاز، ٹماٹر اور دیگر اہم فصلوں کی ایم ایس پی طے کرناچاہیے۔ہم پہلے بھی حکومت سے یہ مطالبہ کرچکے ہیں۔لیکن حکومت کسانوں کے دوستانہ ہونے کا محض دکھاوا کرتی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کے تین سال کی مدت کار میں زرعی شعبے کا بحران بڑھا ہے اور کسان مسلسل خودکشی کر رہے ہیں۔
دھنوپیا نے مودی حکومت کوجملوں کی حکومت بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے راج میں پاکستان کی طرف سے سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، دہشت گردی اور نکسل واد سے منسلک واقعات بڑھے ہیں۔انہوں نے نوٹ بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ 500اور1000روپے کے پرانے نوٹ اچانک کالعدم کرنے سے ملک میں بڑے پیمانے پر روزگار ختم ہو گئے ہیں، ترقی کی شرح کم ہوئی ہے اور اقتصادی ڈھانچہ سست پڑ گیا ہے۔دھنوپیا نے کہا، 'وزیر اعظم نے نوٹ بندی سے کالے دھن پر لگام لگنے کے بڑے بڑے دعوے کئے تھے۔لیکن ان کی حکومت نے اب تک یہ نہیں بتایا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد ملک میں کل کتنے کالے دھن کا انکشاف ہواہے۔